حفاظ کرام کی عظمت اور بھاری ذمہ داری تحریر یار محمد حافظ (Yar Muhammad Hafiz) ستائیسویں شب نہایت سعادت کی رات ہے۔ اور الحمد للہ! ہمارے حفاظِ کرام نے قرآن کے نزول کے مہینے یعنی رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں قرآنِ مجید کو تراویح میں مکمل کرنے کی عظیم سعادت حاصل کی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ ترجمہ کنز الایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔ حفاظِ کرام یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیئے کہ قرآن شریف کا ختم کرنا،اور اسے اگلے رمضان تک نہ پڑھنا یہ نادانی ہے، کیونکہ قرآنِ کریم ہدایت کی کتاب ہے، زندگی گزارنے کا مکمل نظام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ﴿هُدًى لِّلنَّاسِ﴾ ترجمہ کنز الایمان : لوگوں کے لیے ہدایت۔ اگر ہم نے صرف تراویح تک محدود رکھا، تو گویا ہم نے خسارے کو اختیار کیا اور قرآن کا حق ادا نہیں کیا۔ قرآن کے محافظ حفاظِ کرام کی ذمہ داری عموما، عام لوگوں کی ذمہ داری سے کہیں زیادہ اور بڑی ہے۔ عوام ان کو ہی دیکھ کر قرآن کو پہچانتے ہیں۔ اگر حفاظ کی طرز زندگی میں قرآن نظر نہ آئے، تو اس کے ن...