عنوان: کیا غیبت ہمیشہ حرام ہے؟ وہ صورتیں جہاں غیبت جائز ہو جاتی ہے۔
تحریر: یار محمد حافظ( Yar Muhammad Hafiz)
عام طور پر کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا (غیبت) گناہِ کبیرہ ہے، لیکن شریعت نے انسانی جان، مال اور ایمان کی حفاظت کے لیے مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی ہے۔
وہ صورتیں درج ذیل ہیں
1. تظلم (ظلم کے خلاف آواز)
اگر کسی شخص پر ظلم ہوا ہو، تو وہ قاضی، بادشاہ یا کسی ایسے شخص کے پاس ظالم کی شکایت کر سکتا ہے جو اسے انصاف دلانے کی طاقت رکھتا ہو۔
2. برائی کو روکنے کے لیے مدد مانگنا (تغییر المنکر)
اگر آپ کسی کو گناہ کرتا دیکھیں اور آپ خود اسے نہیں روک سکتے، تو کسی ایسے با اثر شخص کو بتانا جو اسے اس گناہ سے روک سکے، غیبت کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس کی نیت صرف اصلاح ہونی چاہیے۔ جیسے بیٹے کی شکایت باپ سے کرنا۔
3. فتویٰ طلب کرنا (الاستفتاء)
مسئلہ پوچھنے کے لیے مفتی کے سامنے کسی کا حال بیان کرنا جائز ہے۔ جیسے ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے اپنے شوہر ابو سفیان رضي الله عنه کے بارے میں تذکرہ کیا تھا۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ نام لیے بغیر بات کی جائے۔
4. مسلمانوں کو شر سے بچانا
یہ نکتہ علمی لحاظ سے سب سے اہم ہے، جس کی چند صورتیں یہ ہیں:
حدیث کے راویوں پر جرح: حدیث کی حفاظت کے لیے راویوں کی کمزوریاں بیان کرنا جیسے علمِ جرح میں ہوتا ہے یہ صورت بھی جائز ہے، بلکہ بعض اوقات واجب ہو جاتا ہے۔
مشورہ دینا: اگر کوئی کسی سے شادی کرنا چا رہا ہو یا کسی کے ساتھ وہ کاروبار کرنا چاہے اور آپ سے مشورہ مانگے، تو سچ بتانا آپ پر واجب ہے۔
دینی طالب علم کی اصلاح: اگر کوئی کسی بدعتی یا فاسق سے دین سیکھ رہا ہو، تو اسے خبردار کرنا۔
5. اعلانیہ گناہ کرنے والا
جو شخص خود اپنی برائیوں کو نہیں چھپاتا اور فخر سے گناہ (جیسے شراب نوشی کرنا وغیرہ ) سر عام کرتا ہو، اس کے ان گناہوں کا تذکرہ کرنا جائز ہے۔
6. پہچان کے لیے
اگر کوئی شخص کسی خاص لقب سے مشہور ہو ( مثلا اندھے کے لقب سے مشہور ہو) اور اس کے بغیر اس کی پہچان ممکن نہ ہو، تو اسے بتانا جائز ہے، بشرطیکہ نیت توہین کرنا نہ ہو۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں