تحریر: یار محمد حافظ (Yar Muhammad Hafiz)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمت اور ان کے فضائل کسی تعارف کے محتاج نہیں، اور نہ ہی ان کی شان بیان کرنے کے لیے ہمیں کسی موضوع من گھڑت یا روایت کا سہارا لینے کی حاجت ہے۔
موجودہ صورتحال اور ہمارا المیہ
علمائے اھلسنت کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب احادیثِ مقبولہ کے ساتھ بیان کرتے آئے ہیں، لیکن آج کل ایک عجیب رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض لوگ صحیح اور مستند احادیث کی موجودگی میں بھی موضوع من گھڑت روایات بیان کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئیے کہ کہ کسی بھی ہستی کی محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ان کی طرف ایسی روایات منسوب کریں جو ثابت ہی نہ ہوں۔
ذرا غور کیجیے!
جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرما دیا کہ شہزادے جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
تو ذرا سوچئے، جن کے بیٹوں کا مقام اور فضیلت یہ ہو، تو ان کے والدِ گرامی حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان اور مرتبے کا عالم کیا ہوگا؟ جس گھرانے کے شہزادے جنت کے سردار ہوں، اس گھر کے سرپرست کی شان بیان کرنے کے لیے کسی موضوع روایت کے سہارے کی حاجت نہیں رہ جاتی۔
یاد رکھیے!
مولا علی رضی اللہ عنہ کی عظمت ایسی نہیں کہ وہ غیر مقبولہ روایتوں کی محتاج ہو۔ ان کی شان نہ ایسی روایتوں سے بڑھے گی اور نہ ان کے بغیر کم ہوگی۔ ان کی شجاعت، علم، زہد اور تقویٰ کی گواہی خود قرآن واحادیث مقبولہ میں موجود ہیں۔
ایک چھوٹا سا عرض
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل صرف احادیث مقبولہ کی روشنی میں بیان کریں اور من گھڑت قصوں سے اجتناب کریں۔ ہمین یہ اصول یاد رکھنا پڑے گا:
حق کو حق کے طریقے سے بیان کرنا ہی اصل عقیدت ہے۔
مزید علمی و تحقیقی مواد کے لیے مجھ سے جڑیں:
YouTube: https://youtube.com/@yarmuhammadhafiz?si=WgQzdYeaGqxxeL_3

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں