قاہرہ انٹر نیشنل بک فیئر اور ایک عاشق کی سرگزشت "عاشق الكتاب لا يحتاج إلى المال"
مصر میں آئے ہوئے آج دو سال اور نصف کا عرصہ ہوچکا ہے تو ان سب پہلو میں جو عاشق کتاب کے لئے جو خوشی کا پہلو ہوتا ہے وہ معرض کتاب ہی ہوتا ہے اور معرض کتاب عرب دنیا میں ہوتے رہتے ہیں کچھ دن پھلے اسی طرح کا معرض کتاب مصر میں انتھاء پذیر ہوا۔آگے بڑھنے سے پہلےرکئیے ہمارے اس مختصر سفر میں میری طرح چائے کا پیالا ساتھ لانا نہ بھولئیے یہ ہی تو ہمارے پاکستانی ہونے کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تو آئیے چلتے ہیں اصل موضوع پہ
مصر کتب میلے کا تاریخی پس منظر
کہا جاتا ہے کہمصر میں معرض کتاب کی ابتداء سنہ 1969میں ہوئی تھی جو مختلف مراحل سے گذرتا ہوا ہو 2006یا 2008 میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا معرض کتاب ہونے کا اعزاز حاصل کیا جو محنت، لگن اور عشاق کتب کی موجودگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔وکی پیڈیا کی خبر کے مطابق صرف 2018 میں ہی تقریبا 45لاکھ لوگوں نے معرض کتاب مصر میں شرکت کی تھی جو ایک بہت بڑی تعداد ہے ، اگر اس سال کی بات کی جائے تو فقط پبلشرز کی تعداد 1200 کے قریب بتائی جا رہی ہے جو 70مختلف ممالک سے تشریف لاکر اس معرض کتاب کو چار چاند لگادئیے۔انتظار کی گھڑیاں اور چائے کا ساتھ
تو ہم بھی الترم الأول کے امتحانوں کی پریشانیوں سے چھٹکارا پاکر 26 جنوری کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہتے ہے ناںالانتظار أشد من الموتانتظار موت سے بھی سخت ترین ہوتا ہےخدا خدا کہتے ہوئے وہ دن بھی آگیا اور ہم نے بھی صبح ہی صبح فول اور جبنہ( جو لوگ عرب ممالک خاص کر مصر کو رونق بخشے ہوئے ہیں وہ ان انمول چیزوں سے اچھی طرح واقف ہیں) کی زیارت کرنے کے بعد کمر کس لی اور معرض کا رخ کرتے ہوئے تقریبا صبح 9:45بجے اپنی منزل مقصود میں پہنچ گئے۔
کتاب کی تلاشاور اسی اثنائ میں ایک کتاب عقل شریف میں شہد کی مانند کی طرح گھول رہی تھی جس کے متعلق مارکیٹ میں خبر پھیل چکی تھی کہ اس سال محدود تعداد کے ساتھ زینت محفل ہے تو ہم چائے کی چسکی کے بنا داخلہ کو حرام سمجھتے ہوئے نشے کے سٹال کی طرف رخ کرتے ہوئے اور عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے ساتھ ساتھی نے فیصلہ کیا کہ آج تو پہلا دن ہے اور صبح کے تو 10 بھی نہیں ہوئے مزے کے ساتھ چائے اور دنیاوی گپ شپ کی لگن میں مصروف عمل ہوگئےلیکن کتاب کی چاہت اور چاشنی نے چائے کو بے مزہ کردیا اور گفتگو کو بے لطف بنادیا کیونکہ کتاب ہی حدیث کے موضوع پہ تھی اور طالب حدیث بے چین نہ ہو تو کیا ہو اور اوپر سے ختم ہونے کا ڈر بھی قلب کو مضطرب کرنے کا کوئی کسر بھی نہ چھوڑا۔چائے کو الوداع کہتے ہوئے کتاب کے ہال 3 کے جناح A30 پہ دار الفتح کی طرف دوڑتے گئے اور جاتے ہی ایک ہی سوال میزائل کےمانند داغ دیايا أخي عائز كتاب ماهية علوم الحديث لدكتور حمزة البكريبھائی صاحب ماھیتہ علوم الحدیث کی کتاب چاہیئے جو دکتور کی تالیف ہے ( یہ کتاب فن حدیث میں بہترین ہدیہ ہے مصنف کی طرف سے عشاق مصطلح الحدیث کے لئے )تو بھائی صاحب نے میزائل کا رخ ہمارے طرف موڑتے ہوئے ہمارے بیچارے بے قرار دلوں کوزخموں سے چکنا چور کرتے ہوئے کہا :معليش انتهتیعنی معذرت کتاب ختم ہو چکی ہے، ہم حیرانی سے پوچھ رہے تھے آج تو پہلا دن ہے اور صبح کے 10 بھی نہیں بجے تو اس کی طرف حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہتمام سسکیوں کی میں ہائے لایا ہوںاہل غم بیٹھو میں چائے لایا ہوںتو ہم اس صاحب مکتبہ کی بلاغت کو بھاپتے ہوئے سمجھ گئے اور تحیہ کرلیا کہ اس سب کے ذمہ دار اور چائے کے صاحب مشورہ ساتھی پہ صرف صغیر کی گردان الضرب کا تجربہ کرلیا جائےساتھی نے حالات کو بھانتے ہوئے کہا کے جناب عالیآپ ہی اس مشورہ والوں میں اول پہ رقم طراز تھےتو ہم نے زخمی دل کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہانبوہ اہل زخم تو کب کا گزر چکااب رہ گزر پہ خاک میں غلطیدہ کون ہےتو ہم زخمی دل سے ساتھ لوٹ رہے تھے کہکسی نے کان نے میں گوش دراز کرتے ہوئے کہا مولانا اس کی PDF چاہئے تو میرے پاس ہے یہ سنتے ہی اجڑے دل کو کچھ تسکین ملی اور اپنی گردن شریف کو تکلیف دیتے ہوئے دیکھا کہ صاحب نے بہت ہی مہنگی کتاب کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے مجنون کے مانند کتاب کا رس گھول رہے تھے تو ہم نے بھی منہ شریف کو صاحب مکتبہ سے چہپاتے ہوئے واٹس اب نمبر دیتے ہوئے کہا کہ مولانا جلدی کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ صاحب مکتبہ کی طرف سے ہدیہ ضرب ہی نا مل جائے کتاب سے پہلے
دیار غیر میں اپنوں کا احساس اور عاشق کتاباسی اثناء میں ایک اور کتاب پہ نظر پڑی تو دل باغ باغ کیوں نہ ہو جب دیار غیر میں اپنوں کی موجودگی کا احساس ہوجائے تو دل کو قرار آ ہی جاتاہےمیری مقصود سیدنا مولانا امام مخدوم محمد ھاشم ٹھٹوی عليه الرَّحمة کی کتاب مظهر الأنوار في أحكام الصِّيام جو مولانا محمد جان نعیمی صاحب کی تحقیق سے شائع ہونے والی مایہ ناز کتابوں سے ایک کتاب ہےاس کے علاوہ اور بھی بیشمار کتب دیکھ کر دل خوشی سے جھومنے لگا اور البکری صاحب کی کتاب کا غم بھی نا چاہتے ہوئے بھی بھلانا پڑاکتابوں کی لگن میں اتنے مشغول ہوگئے کہ معلوم نہیں چلا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ اسی ایک جناح پہ گذر گیاتو ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ دیکھو ابھی تک وہ مجنون یعنی صاحب PDF اس ایک کتاب میں لگا ہوا ہےقریب جا کر بولااتنی تفتیش صرف ایک کتاب کو لینے کے لئےہاتھوں سے پیسے نہ ہونے کا اشارہ کرتے ہوئےگویا کہ بول بڑا کہ اتنی مہنگی کتاب کو خریدتا کون ہے ہم تو پڑھ لیتے ہیں جہاں ملے جس سے ملےچلو اپنی بنائی کو بلاغت کے ایک طرف کرتے ہوئے اس صاحب کے تاریخی جملے کی طرف آتے ہیںجو انہوں نے بڑی رنجیدہ سے کہا تھا کہعاشق الكتاب لا يحتاج إلى المالتو ہم نے بھی یہ جملے سننےکے بعد شرماتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑے
✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں