نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چیٹ جی پی ٹی اور باحث

 چیٹ جی پی ٹی کی دنیا ایک کھلے ہوئے سمندر کے مانند ہے لیکن اس کو حرف آخر سمجھنا اندھے اعتماد کے مترادف ہے 

ان کی عبارت کو  پرکھنے کے بعد ہی قابل اعتماد سمجھا جا سکتا ہے ، موصوف کی ان گنت عادتوں میں سے ایک  عادت یہ  بھی ہے کہ وہ مسئلہ کی عبارت  اپنی طرف سے وضع کرنے  کے بعد کتاب جلد حتی کہ صفحہ نمبر بھی تحریر کر دیتا ہے 

اور جب آپ کتاب کی طرف رجوع کریں گے تو صفحہ نمبر تو دور کی بات ہے وہ عبارت بھی رد وبدل کے بعد بھی نہ پائیں گے 

جس کا تجربہ راقم کافی عرصہ قبل کرچکا تھا ،گذشتہ کل بھی کسی دوست کے توسط سے دوبارہ پالا پڑا لیکن آنحضرت کی عادت وہی کی وہی ٹہری

✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا حاشیہ سے حوالہ دینا سہی ہے، حاشیہ سے حوالہ دینا کیسا، حوالہ کیسے دیں،

 کیا حاشیہ سے حوالہ دینا سہی ہے؟    کتابت کے بہت سے آداب اور قوانین ہیں جو مختلف کتب ورسائل میں موجود ہیں انہیں آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ جس کتاب کا حوالہ ذکر کیا جائے تو اصل کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہئے نہ کہ ھوامش اور حاشیوں سے أخذ کیا جائے یہ ہی اصل طریقہ ہے اور ان پہ ہی عمل کیا جاتا ہے   ھوامش اور حاشیوں سے نقل کرکہ اصل کتاب کا حوالہ دینا یہ اسلوب درست نہیں ہے  جیسا کہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی رحمه الله نے السيف الجلي على ساب النبي ص (120/121) میں الجوهرة النيرة سے عبارت نقل کرتے ہیں وقال في الجوهرة النيرة في ذيل المسألة... سب الشيخين: أن عدم قبول توبته في إسقاط القتل هو المختار للفتوى، وبه أخذ الفقيه «أبو الليث السمرقندي» و«أبو نصر الدبوسي» . انتهى. اور یہی عبارت الجوهرة النيرة میں کچھ یوں ہے ومن سب الشيخين أو طعن فيهما يكفر ويجب قتله ثم إن رجع وتاب وجدد الإسلام هل تقبل توبته أم لا قال الصدر الشهيد لا تقبل توبته وإسلامه وبه أخذ الفقيه أبو الليث السمرقندي وأبو نصر الدبوسي وهو المختار للفتوى. (ج ٢ ص ٢٧٦) اگر کاتب یہ عبارت جو السیف الجلي میں موجود...

محدثین کا اختلاف، جرح و تعديل میں اختلاف کا حل، ایک ہی امام کے ایک راوی میں دو قول

 بسم اللہ الرحمن الرحیم اختلاف المحدثين في الجرح والتعديل الجرح والتعديل ایسا علم ہے جس میں کبھی کبھار ایسی نوعیت آجاتی ہے کہ جس میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا یے کہ کس عالم کی رائے کو مقدم کیا جائے اورکس عالم کی رائے متاخر کیا جائے کیونکہ دونوں طرف سے ثقہ و متقن امام ہوتے ہیں اورایک ہی راوی کے متعلق مختلف بیان ہوتے ہیں ایک ثقہ تو دوسرا اس کا عکس بتا رہا ہوتا ہے جیسا کہ اس کی مثال اسرائیل بن یونس ہمدانی کوفی اور ابن اسحاق میں واضح دیکھا جا سکتا ہے. یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ کسی راوی کے متعلق ائمہ حدیث کا اختلاف ہونا یہ کوئی مضائقہ خیز بات نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف کا ہونا فقہائے کرام کے اختلاف کے ہونے جیسا ہی ہے.  ائمہ حدیث کے اختلاف کے متعلق امام منذری سے سوال ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا واختلاف هؤلاء كاختلاف الفقهاء. یعنی ان ائمہ کا اختلاف فقھاء کے اختلاف جیسا ہی ہے. (كتاب جواب الحافظ المنذري عن أسئلة في الجرح والتعديل ص 83). اور اسی اختلاف کے سبب حدیث کے صحیح اور ضعیف ہونے میں ائمہ کا اختلاف ہوا ہے اور یہ اختلاف درایہ کے اعتبار سے نہیں بلکہ روایہ کے اعتبار ...

سندھ کا سلسلہ اسانید

  بسم الله الرحمن الرحيم یہ بات عیاں ہے کہ برصغیر میں اسلام کا پہلا پڑاؤ سرزمین سندھ تھی اور یہاں سے ہوتا ہوا پورے برصغیر میں اسلام کا جھنڈا جگ مگایا بلکہ جگ مگا رہا ہے  بسبب این سرزمین سندھ   کو باب الاسلام کہا جاتا ہے.  یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سرزمین  سندھ  اسلام کی ترجمانی میں اعلی مقام رکھتی ہے چاہے وہ گفت و شنید ہو یا تحریر و تحقیق ہو چاہے کوئی اور میدان ہو لب لباب یہ ہے کہ ہر  محاذ پہ علمائے سندھ نے اسلام کے  آسماں پہ قمر کی طرح جگمگا رہے ہیں.  مذھب اسلام کی ایک خوبصورتی یہ  ہے کہ وہ ہر معاملہ میں سند رکھتا ہے چاہے وہ قرآن ہو یا سنت ہو یا سیرت ہو  حتی کہ کتب کی بھی اسناد پائی جاتی ہے اسناد  کی فضیلت اور اہمیت میں بے شمار اقوال مذکور ہیں جن سب کا احاطہ کرنا اس مختصر رسالے کا موضوع تو نہیں ہے  لیکن ان میں سے کچھ  کو بطور فضیلت موضوع بیان کرنا اس نوشت کی ایک کڑی ہے  مشھور تابعی بزرگ امام محمد بن سیرین رحمه الله( متوفی١١٠)   نے سند کے متعلق کہا  "إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم...

عوج بن عنق کی حقیقت

 عوج بن عنق کی حقیقت: 3333 گز کا انسان؟ حقیقت یا من گھڑت قصہ؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ ایک انسان اتنا لمبا تھا کہ اس کا قد 3333 گز تھا اور وہ سمندر سے مچھلی پکڑ کر سورج کی تپش سے بھون کر کھا لیتا تھا؟ ایسے واقعات بعض تفسیری کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ اس شخص کا نام 'عوج' بتایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں یہ عجیب و غریب دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ اپنے غیر معمولی قد کی وجہ سے طوفانِ نوح میں بھی غرق نہیں ہوا تھا۔ حقیقت کیا ہے؟ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایسا انسان حقیقت میں کبھی موجود تھا؟  ابن کثیر  جیسے  مفسر  نے کہا  کہ یہ تمام واقعات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ یہاں تک کہ بعض علماءِ  نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تاریخ میں "عوج" نامی کسی شخص کا کوئی وجود ہی نہیں رہا۔ یہ قصہ دراصل اسرائیلی روایات کا حصہ ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  ہمیں چاہئیے کہ  ایسی من گھڑت روایات کو بیان کرنے اور ان پر یقین کرنے سے بچنا چاہیے اس طرح کی معلوماتی مواد کے لئے ہمارے ساتھ جڑیں  📘 Facebook Page: https://www.facebook.com/share/1Fr1Vgr7W2/ 🎵 TikTok: htt...

سطر پر مشتمل سخن

  کبھی کبھار ایک سطر پر مشتمل سخن، زیورِ بیان سے آراستہ ہوتی ہے جو دیکھنے میں موتی کی مانند اور معنی میں شہد کی مثل محسوس ہوتی ہے۔   لیکن اس سخن کو لکھنے کے لئے کاتب کی کئی سالوں کی جھد لگن و محنت پس پردہ  بے جو بے زبان ہو کر بھی بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہے جس کا یہ نچوڑ یا یوں کہا جائے کہ اس کی اس جھد کا نتیجہ یہ مختصر سخن پر محو طواف ہوتا ہے  اپنی کئی سالوں کی محنت وجھد کو کسی ایک سطر محو طواف موتی کے مانند جملہ کو پروننا یہ ایک الگ فن ہے صاحب فن ہی اس کو سمجھتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ «صاحب البيت أدرى بما فيه» خیر جو تصویر میں عبارت نظر آ رہی ہے وہی اس مختصر کی گفتگو کی کڑی ہے  اگر کوئی غیر ذوق شخص دیکھے تو کہ دے یہ تو محض ایک سطر ہے اس میں کوئی جھد عیاں نہیں  ویسے یہ کلام درست ہے اگر ایک جہت کی طرف دیکھا جائے تو بظاہر یہ مختصر لگ رہی ہے لیکن اس کی اہمیت قدر و قیمت کسی طالب حدیث سے بڑھ کر کوئی نہ جان سکتا ہے نہ پہنچ سکتا ہے  اس لئے تو کہا جاتا « ہر بندہ اپنے محاذ کا شیر ہوتا ہے» وہ اس کی حقیقت کو اور اھمیت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ✍...

فعل مضارع کی اعراب،فعل مضارع کی اعراب کے حالات

 حالات إعراب الفعل المضارع اعلم أنَّ إعراب الفعل المضارع يكون على نوعين:  الأوَّل: المعرب: فيكون على ثلاثة أقسام: المرفوع، المنصوب، والمجزوم.  والثَّاني: المبنيُّ: فيكون على قسمين: نون النسوة، ونون التَّوكيد.                                                                          الفعل المضارع المعرب اعلم أنَّ الفعل المضارع مرفوعٌ يكون على ثلاثة حالات: (أ) إذا يكون الفعل المضارع مرفوعًا على الضمة الظاهرة فيكون على حالة واحدة: 1-إذا كان صحيح الآخر كـ«يكتب» فإعرابه: الفعل المضارع المرفوع وعلامة رفعه الضمة الظاهرة على آخره لأنه صحيح الآخر، والفاعل ضمير مستتر تقديره «هو». (ب) إذا يكون الفعل المضارع مرفوعًا على الضمَّة المقدَّرة فيكون على ثلاثة حالات: 1-إذا كان منع من ظهورها الثقل بـ «و» كـ «يدعو» فإعرابه: الفعل المضارع المرفوع وعلامة رفعه الضمَّة المقدَّرة على آخره منع من ظهورها الثقل ، والفاع...

فعل ماضی کے اعراب، فعل ماضی کے اعراب کے حالات

 حالات إعراب الفعل الماضي اعلم أنَّ إعراب الفعل الماضي يكون مبنيَّا على الفتح أو السُّكون أو الضمِّ. (أ) إذا يكون الفعل الماضي مبنيًّا على الفتح فيكون على أربعة حالاتٍ: 1-إذا لم يتَّصل بآخره شيء كـ«كتب» فإعرابه: الفعل الماضي مبنيٌّ على الفتحة الظَّاهرة على آخره والفاعل ضمير مستتر تقديره «هو». 2-إذا اتَّصلت به «تاء التأنيث» كـ«كتبت» فإعرابه: الفعل الماضي مبنيٌّ على الفتح لاتِّصاله بــ«تاء التأنيث الساكنة» و «التاء» حرف مبنيٌّ على السُّكون لا محلَّ له من الإعراب. 3-إذا اتَّصلت به «الضَّمير» مثلًا «ي» و «نا» و «ه» و «ك» فــ «الياء» كــ «علَّمَنِي» فإعرابه: الفعل الماضي مبنيٌّ على الفتح، و «ن» نون الوقاية حرف مبنيٌّ على الكسر لا محلَّ له من الإعراب، و «ي» ضمير متَّصل مبنيٌّ على السُّكون في محلِّ النَّصب مفعول به. فــ «نا» كــ «عَلَّمَنا» فإعرابه: الفعل الماضي مبنيٌّ على الفتح، و «نا» ضمير متَّصل متكلمين مبنيٌّ على السُّكون في محلِّ النَّصب مفعول به. فــ «ه» كــــ «عَلَّمَه» فإعرابه: الفعل الماضي مبنيٌّ على الفتح، و «ه» ضمير متَّصل مبنيٌّ على الضمِّ في محلِّ النصب مفعول به. فــــ «ك» كـ...

حدیث من عرف نفسه فقد عرف ربه کا حکم

حدیث  من عرف نفسه فقد عرف ربه کا حکم  آج میں الحاوی للفتاوی کے مطالعے میں مصروف تھا کہ حدیث من عرف نفسه فقد عرف ربه پہ نظر جمی جو ہمارے ہاں  بہت  زیادہ شہرت کی حامل  ہے اس کے متعلق امام جلال الدین سیوطی رحمه الله سے  سوال ہوا تو آپ نے جو جواب ارشاد فرمایا وہ حاضر خدمت ہے  إن هذا الحديث ليس بصحيح، وقد سئل عنه النووي في فتاويه فقال: إنه ليس بثابت، وقال ابن تيمية: موضوع ( الحاوي للفتاوي ج ۲ ص ۲۸۸ )  ترجمہ بیشک یہ حدیث صحیح نہیں  ہے اور ایسا ہی سوال کیا گیا امام نووی رحمه الله سے تو انہوں نے فرما یا کہ یہ حدیث ثابت نہیں اور ابن تیمیہ نے کہا کہ (یہ حدیث)  موضوع ہے  ✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ

جس مسجد میں پنجگانہ نماز نہ ہوتی ہو وہاں جمعہ قائم کرنا

 *جس مسجد میں پنجگانہ نماز جماعت سے نہ ہوتی ہو کیا وہاں پہ جمعہ ہوسکتا ہے*  اگر جمعہ کے تمام شرائط پائی جاتی ہوں تو وہاں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے اگرچہ پنجگانہ نماز نہ ہوتی ہو کیونکہ پنجگانہ نماز کا ہونا یہ جمعہ کی شرائط میں سے نہیں ہے  بدائع الصنائع میں ہے  وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت. (كتاب بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - فصل بيان شرائط الجمعة ص 258) امام کاسانی رحمه الله نے اس مقام پہ جمعہ کی شرائط ذکر فرمائی لیکن پنجگانہ نماز کا شرائط میں ذکر نہیں فرمایا  اور علامہ ابن الهمام الحنفي رحمہ اللہ نے بھی پنجگانہ نماز کو جمعہ کی شرائط میں ذکر نہیں فرمایا  وشرائط في غيره: المصر، والجماعة، والخطبة، والسلطان، والوقت، والإذن العام۔ ( كتاب فتح القدير باب صلاة الجمعة - ص 50) ✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ

اختصار اور اقتصار میں کیا فرق ہے؟

زبان و بیان میں بعض اوقات ہم ہم معنی الفاظ کا استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کے درمیان موجود باریک فنی فرق سے ناواقف ہوتے ہیں۔ علمِ لغت میں "اختصار" اور "اقتصار" دو ایسی اصطلاحات ہیں جنہیں عموماً ایک ہی معنی میں لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔.  اختصار وه ہے جس میں الفاظ کم ہوں اور معانی زیادہ ہو یعنی  اختصار دراصل بلاغت کا خاصہ ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں ایک ادیب یا محقق سمندر کو کوزے میں بند کر دیتا ہے اقتصار وہ جس میں الفاظ اور معانی دونوں قلیل ہوں یعنی اقتصار دراصل کسی چیز کو صرف ایک حصے تک محدود کر دینے کا نام ہے۔ فرق: جہاں اختصار میں "جامعیت" ہوتی ہے، وہیں اقتصار میں "اکتفا" (بس کر دینا) ہوتا ہے۔ اقتصار میں قاری کو وہ وسعت نہیں ملتی جو اختصار کا خاصہ ہے۔ ✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ