موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بدولت معلومات کا سیلاب ہر خاص و عام تک پہنچ رہا ہے۔ ایسے میں جب عوام اہل سنت کسی مبتدع (بدعت کی طرف مائل) راوی سے کوئی علمی بات یا روایت سنتے ہیں، تو وہ ڈگمگا جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ مسئلہ نیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی عوام کو ان علمی اصولوں سے آگاہ نہیں کیا جو ہمارے اکابر نے بہت پہلے وضع کر دیے تھے۔ اگر ہم پہلے ہی اپنی عوام کو اھلسنت کے اصول سے آگاہ کرتے تو یہاں تک نوبت نہ پہنچتی اور نہ ہی ایسی باتیں عوام اھلسنت میں انتشار کا باعث بنتی۔
ائمہ کا منہج
اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں سے روایت لی گئی ہیں، لیکن علمِ حدیث اور جرح و تعدیل کے اماموں نے اس معاملے میں نہایت باریک بینی سے کام لیا ہے۔ ائمہ فن نے ثقاہت اور سچائی کو بنیاد بنا کر ایسے راویوں سے روایت لی ہے جو غالی نہیں تھے۔
اکابرین کے حوالہ جات
امام ذھبی رضی اللہ عنہ نے میزان الاعتدال میں أبان الکوفی کے ترجمہ (حالاتِ زندگی) کے ذیل میں اس مسئلے کی نہایت مدلل توضیح فرمائی ہے کہ کسی راوی کے عقیدے کی لغزش اور اس کی روایت کی سچائی میں کیسے فرق کیا جائے گا۔اور امام جلال الدین سیوطی نے تدریب الراوی میں بھی اس مسئلہ کو اجاگر کیا ہے۔
ہمارا علمی فریضہ
اس پرفتن دور میں عوام اہل سنت میں انتشار کو روکنے کا واحد حل یہ ہے کہ انہیں "اصولِ اہل سنت" سے آگاہ کیا جائے۔ اگر ہم انہیں پہلے ہی بتا دیں کہ ہمارے ائمہ کا علمی منہج کتنا وسیع اور مضبوط تھا، تو وہ کبھی ڈگمگا نہیں سکتے۔ یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی حقائق کو تحقیقی انداز میں عوام تک پہنچائیں تاکہ ان کا ایمان اور علمی بنیادیں مستحکم رہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس پر فتن دور میں ہم اپنی عوام کو اھلسنت کے اصول اور مسائل سے آگاہ کریں اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔
والله أعلم بالصواب
✍️ Yar Muhammad Hafiz یار محمد حافظ
اس طرح کی معلوماتی مواد کے لئے ہمارے ساتھ جڑیں
Facebook Page:
https://www.facebook.com/share/1Fr1Vgr7W2/
TikTok: https://www.tiktok.com/@yar_muhammad04
YouTube: https://youtube.com/@yarmuhammadhafiz?si=qQUKQIer5mPzRMze

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں